وہ فاصلہ ہے کہ لمحہ بھی سال ہے آقاؐ
مدینہ دُور ہے ، اِس کا ملال ہے آقاؐ
خراب حال ہیں اقوام بالعموم ، مگر
خراب تر تِری اُمت کا حال ہے آقاؐ
مگر بھُلائے ہُوئے ہیں اصولِ راہبری
اگرچہ سامنے تیری مثال ہے آقاؐ
سوائے ایک تمنائے حاضری ، مجھ پاس
نہ زادِ راہ نہ مال و منال ہے آقاؐ
سیاہ کار کے چہرے پہ نور آ جائے
کرم کی ایک نظر کا سوال ہے آقاؐ
